Hamari Mehdood Soch

قسمت سے لڑنا اصل میں خدا سے لڑنا ھے۔قسمت کا لکھا نہیں بدلا جا سکتا مگر صرف دعا سے کہ دعا ھی نا ممکن کو ممکن بناتی اور ھاتھوں کی لکیریں بدل دیتی ھے مگر جو قسمت کے لکھے کو خدا کی مرضی جانتے ھوئے صابر و شاکر رھتے ھیں انہی لوگوں کے لیئے وہ فرماتا ھے “ان اللہ مع الصابرین” ، “ان اللہ مع الشاکرین”۔ ھم اپنے چاھنے والوں یا جن کو ھم چاھتے تھے، چھوڑ جانے والوں ، بچھڑ جانے والوں ، کوچ کر جانے والوں کہ جن پر صور پھونکا جا چُکا ان کو بھُلا نہیں سکتے۔کبھی کبھی اُن کی یاد اس کُونج کی طرح کُرلاتی ھے جو اپنے ڈار سے بچھڑ گئی ھو۔ آنسوؤں کا بہہ نکلنا یا آنکھ کا نم ھونا فطری جذبہ ھوتا ھے لیکن اس میں گِلہ نہیں ھونا چاھئیے کہ “یوں نہ ھوتا تو کیا ھوتا” ۔ ھم محدود ذھنوں سے سوچتے ھیں اور وہ ذات جو لا محدود ھے جو کرتی ھے بہتر کرتی ھے لیکن اُس لا محدود ذات کے فیصلے ھمارا محدود ذھن سمجھ نہیں پاتا اور ھم بچھڑی کُونج کی طرح کُرلاتے ھیں۔

via Bukhari sahab.

Advertisements

Your Electrons about this Post?

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: